264

کینسر میں مبتلا پولیس سب انسپکڑ کی برطرفی آئی جی پنجاب کے نام ملک عون اعوان کا کھلا کھلا خط

گوجرانوالہ/گکھڑمنڈی/وزیرآباد : ّجناب آئی پنجاب صاحب! کیا آپ کے علم میں ہے کہ گوجرانوالہ کے ایک سب انسپکٹر زین العابدین کو غیر حاضری کی بنیاد پر E& D Rules کے تحت چارج شیٹ کیا گیا اور انکوائری کی گئی۔ سب انسپکٹر کینسر کے موزی مرض میں مبتلا تھا اور شوکت خانم ہسپتال میں داخل تھا۔ اس نے انکوائری آفیسر کو اپنا میڈیکل سرٹیفکیٹ بھجوایا اور بتایا کہ وہ اسقدر کمزور ہو چکا ہے کہ چل پھر نہیں سکتا اور آپکے پیش نہیں ہو سکتا۔ انکوائری آفیسر نے انکوائری رپورٹ میں یہ ساری تفصیل لکھی اور findings میں لکھا کہ ان حالات میں IO الزامات کی statement( غیر حاضری) کے بارے میں حتمی conclusion پر نہیں پہنچ سکتا۔ افسر مجاز نے اس انکوائری رپورٹ کے موصول ہونے کے باوجود اس سب انسپکٹر کو 29 مئی 2020 کو ملازمت سے ڈسمس کر دیا۔ جبکہ آج 6 جون 2020 کو اس سب انسپکٹر کی کینسر سے وفات ہو گئی ہے۔ جناب آئی جی پنجاب صاحب محکمہ پولیس کو تو اپنے سب انسپکٹر کا اس بیماری میں علاج کروانا چاہیے تھا جبکہ اسے برخاست کر دیا گیا۔ اب اس سزا کے بعد اس کے لواحقین death package کے مستحق بھی نہیں رہے۔ یہ بہت افسوسناک ہے کینسر جیسے موذی مرض کا نام ہی کافی ہے۔ میری صرف گذارش یہ ہیکہ جو پولیس افسران اس پوسٹ کو پڑھ رہے ہیں وہ اس کیس کو دوبارہ دیکھیں اور فیصلہ پر نظر ثانی کریں ۔ جناب آئی جی پنجاب صاحب دوسری گذارش یہ ہے کہ کسی کی بھی انکوائری یا جزا سزا کا فیصلہ کرتے وقت حقائق کو ضرور مد نظر رکھا جائے۔ ورنہ اللہ تعالی کی زات ہر معاملہ کو دیکھ رہی ہوتی ہے اور بھولتی نہیں۔ ہم جتنے بھی طاقتور ہوں اور اعلی عہدوں پر فائز ہوں بنیادی طور پر انسان ہیں اور انسان بہت کمزور ہے ! اللہ تعالی کی زات اس سب انسپکٹر کو جنت میں جگہ نصیب فرمائیں اور محکمہ پولیس اس سب انسپکٹر کو death package دینے کا عمل مکمل کرے۔ گذارش یہ بھی ہیکہ کوئی بھی محکمہ ہو اسے اپنے افراد کو بیماری یا مصیبت کی صورت میں facilitate کرنا چاہیے نہ کہ جلد بازی میں سزا دینی چاہیے.ّ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں