177

کروناوائرس کے خاتمے کی عالمی کوششوں میں چین کا تعاون


(خصوصی رپورٹ):۔ چینی صدر ژی جنپنگ نے 18مئی کو 73ویں عالمی صحت اسمبلی کے اجلاس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر ویڈیو لنک کے زریعے دنیا سے کرونا وائرس کے خاتمے اور تدارک کے حوالے سے باہمی یکجہتی اور تعاون کے عوامل کے پیشِ نظر ایک تقریر کی، تاکہ عالمی برادری کو صحت کے بنیادی عوامل کو یقینی بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کیا جا سکیں۔ چینی صدر شی جننگ نے اس موقع پر سب کے لیے صحت کی اہمیت کو عالمی برادری کو تجویز پیش کرتے ہوئے وبائی ردعمل میں چین کی کوششوں کو واضح کیا، انہوں نے کہا کہ چین نے اس عالمی وبا کے خاتمے اور عالمی اعتماد کو بڑھانے میں اہم ترین قدم اٹھایا، اور عالمی سطع پر وبائی امراض کے خاتمے کے عملی اقدامات اور طویل مدتی تعاون کی اہمیت پر زور دہتے ہوئے کہا کہ ان عوامل کے پیش نظر دنیا کو ایک عالمی گورننس نظام کی منصوبہ بندی یقینی بنانا ہوگی۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہا دوسری عالمی جنگِ عظیم کے بعد سے یہ دوسرا موقع ہے کہ عالمی سطع پر عوامی صحت کو ایمرجنسی کا سامنا ہے۔ عالمی ادارہِ صحت کی جانب سے بلایا گیا یہ حالیہ اجلاس بہت اہمیت کا حامل ہے، اور کرونا وائرس کی روک تھام اور کنٹرول میں چین کامیابیوں کیساتھ ساتھ عالمی انسدادِ وبائی تعاون میں چین کا اہم کردار تسلیم کرنے پر عالمی برادری کے لیے چین کی تعاون کی ترجمانی کرتا ہے۔ چینی صدر شی جنہنگ نے کہا کہ کرونا وائرس کو عالمی سطع پر شکست دینے کے لیے وسائل کو متحرک کرنے اور کرونا وبا پر قابو پانے اور ممکنہ علاج کی دریافت کے حوالے سے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔ بالخصوص افریقی ممالک کے لیے مدد فراہم کرنا صحتِ عامہ کے شعبوں میں عالمی نظم و نسق کو مستحکم کرنا، معاشی اور معاشرتی ترقی کی بحالی، اور مضبوط بین الاقوامی تعاون اس کے علاوہ عالمی ادارہِ صحت کو اس وبا کے خاتمے کے حوالے سے عالمی ردعمل کی رہنمائی یقنی بناناچاہیئے۔ شی جنپنگ نے کہا کہ چین نے وبا کے کنٹرول اور خاتمے کے حوالے سے جو نظریات پیش کیئے ہیں وہ اس کے وبائی بمیاریوں سے متعلق قیمتی تجربے کی بنیاد پر قائم کیئے گئے ہں، جس میں عالمی سطع پر پر عوام کو صحت عامہ کے حوالے سے درپیش مشکلات اور طویل مدتی ترقی دونوں کا ازالہ ہونا چاہیے۔ اور ایک مربوط اور موثر نظام کی تشکیل یقینی بنائی جانی چاہیے، یوں ان کی تجاویز نے ثابت کیا کہ چین ہمیشہ سے یکجہتی اورتعاون میں عالمی سطع پر پیش پیش رہتا ہے۔ اس حوالے سے عالمی ادارہِ صحت کی اسمبلی کے72ویں اجلاس کے صدر اور وزیرِ صحت، لاؤس کے صدربونکونگ سیاؤ نے کہا کہ صدر شی جنہنگ کے پیغام نے ہمیں وبائی امراض کے لڑنے بالخصوص کرونا کے خاتمے کے حوالے سے ایک حوصلہ افزا آغاز فراہم کیا ہے۔ انہوں نے چین کی جانب سے اس تناظر میں قیمتی امداد پر چین کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس وبا کے خاتمے کے اس نازک لمحے میں چین نے ماضی کی طرح ایک مثبت اور فعال زمہ درانہ کردار ادا کیا ہے۔ چین کے کرونا وائرس کے خاتمے کے حوالیسے اقدامات کو سرہا گیا ہے۔ اور چین کی ممکنہ کامیابیوں سے دنیا کو اس وبا کے خاتمے کے حوالے سے ایک حوصلہ مل رہا ہے۔ اور بین الاقوامی معاشرئے کوآہستہ آہستہ یہ حوصلہ حاصل ہو رہا ہے کہ یکجہتی اورتعاون کی چینی تجویز پر چین زبر دست انداز میں اس وبا کے خلاف برسرِ پیکار ہے اور جلد اس وبا کے خاتمے کا باعث بنے گا۔ عالمی ادارہِ صحت کے اجلاس میں چینی صدر شی جنہنگ نے عالمی سطع پر باہمی تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے جن پانچ بنیادی اقدامات کا زکر کیا ان سب اقدامات کو عالمی سطع پر بھر پور پزیرائی حاصل ہو رہیء ہے۔ چین کرونا وائرس کے خلاف ممکنہ ردعمل اور متاثرہ ممالک بالخصوص ترقی پزیر ممالک میں معاشی اور معاشرتی ترقی میں مدد کے لیے دو سالوں میں دو ارب امریکی ڈالر بھی فرایم کریگا۔ چین نے کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کیساتھ ملکرعالمی سطع پر اس وبا کے خاتمے اور کنٹرول کے لیے مراکز قائم کریگا، اور وبا کے خاتمے کے عوامل کو یقینی بنانے کے لیے سپلائی نیٹ ورک اور متعلقہ ساز وسامان کی نقل وحمل کو یقینی بنانے کے لیے فاسٹ ٹریک گرین کوریڈور ز کو تیزی سے یقینی بنائے گا۔ اس ی طرح چین افریقی ممالک میں پسپتال سینٹرز کے نہٹ ورک قائم کریگا، تاکہ تمام دنیا کے براعظموں کو اس وبا کے خاتمے اور کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے ایک نیٹ ورک سے منسلک کیا جا سکے۔ چین نے اعلان کیا ہے کہ عالمی سطع پر چین اس وبا کے خاتمے کی ویکسین کی تیاری پر توجہ مرکوز کیئے ہوئے ہے۔ اور عالمی سطع پر اس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائیگا۔ ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد آنیوالی نسلوں کو اس وبا سے محفوظرکھناہے۔ اور اس حوالے سے چین کی قیادت ایک زمہ درانہ کردارا ادا کر ہری ہے۔ تاکہ عالمی سطع پر صحت عامہ کو یقنی بنایا جا سکے۔ آج دنیا ایک نازک لمحے پر موجود ہے۔ جب یکجہتی اور باہمی تعاون کی زمہ درای کیساتھ بہت زیادہ ضروت ہے۔ اور اس حوالے سے چین نے تجاویز باہمی اتفاقِ رائے سے دی ہیں۔ عالمی ادارہِ صحت کے حالیہ اجلاس میں سبھی سربراہانِ مملکت کی جانب سے باہمی تعاون اور یکجہتی کے فروغ کے حوالے سے عوامل پر زور دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں اقوامِ متحدہ کے سکرٹری جنرل انتونیو گوئٹرس نے کہا ہے آج سب سے اہم ترین امر جس کی ضرورت ہے وہ ہے باہمی تعاون اور یکجہتی کا فروغ تاکہ اقوامِ عالم کو ایک کمیونٹی کی طرح سے ملکر اس عالمی وباکا مقابلہ کر سکیں، فرانسیسی صدر ایمونئل مارکو نے کہا کہ عالمی ادارہِ صحت کے حالیہ اجلاس کو سب سے اہم ترین اجلاس کہنا بیجا نہیں ہوگا۔ اور آج وقت ہے کہ ہمیں ایک واضح حکمتِ عملی سے اس وبا کے خاتمے کو یقنی بنائیں، جرمن چانسلر ایجیلا مارکل نے کہا ہے کہ عالمی ادارہِ صحت عالمی صحتِ عامہ کے حوالے سے ایک جائز حق رکھتاہے اور ہمیں عالمی ادارہِ صحٹ کے قواعد کے تحت ہی ملکر کوششیں یقینی بنانا چاہیے، انسانیت ایک ایسی کمیونٹی ہے جن کا مستقبل باہم ایک دوسرے سے منسلک ہے، اور اس سے قبل ایبولا وائرس کے خاتمے، ایڈز، انفلوئنزا، اور دیگر وبائی امراض کے خاتمے کے حوالے سے جیسے تمام ممالک نے ملکر کام کیا ہے اس وبا کو بھی ایسے ہی باہمی تعاون کی کوششوں سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کو اس امر کو تسلیم کرنا چاہیے کہ ہمیں باہم ملکر ہی لوگوں کو زندگیوں کو اس وبا کے خاتمے کے لیے کوششیں کرنا چاہیے۔ اور باہمی صحت اور خوشحالی سے منسلک ایک کمییونٹی کے قیام کو یقینی بنانا چاہیے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں