74

چین میں مختلف ایجادات کے حوالے سے حقوقِ تحفظ کی شرح کرونا وبا سے پہلے کی سطع پر پہنچ گئی

۔

(خصوصی رپورٹ):۔ چین میں مختلف ایجادات کے حقوقِ تحفظ کے اعدادوشمارکے مطابق رواں سال کے پہلے چار مہینوں میں چین کی مختلف ایجادات کے حوالے سے موصول درخواستوں کی شرح کرونا وبا سے پہلے کی شرح پر ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس حوالے سے چینکی ہائی ٹیک کمپنیز نے مختلف ایجادات کے حوالے سے متعلقہ شعبوں کو ارسال کر دیں ہیں، جبکہ موجودہ حالات میں تیزی سے ابھرتے ہوئے شعبوں میں ایک نئے شعبے کا اضافہ بھی ریکارڈ کیاگیاہے۔ جسے ملک کی اقتصادی استحکام کے حوالے سے ایک نئی متحرک قوت سمجھا جا رہا ہے۔ وبائی ردعمل نے مارکیٹ اداروں کے ترقیاتی فلسفے کی منتقلی کو مزید تیز کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے ملک میں ہائی ٹیک جدت پسندی کو مزید اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے چین کی انٹی لیکچوئل پراپرٹی ایڈمنسٹریشن کے پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈیوژن کے سربراہ جی شو نے کہا گھریلو استعمال سے متعلق پیٹنٹ درخواستوں کی شرح سے حالیہ دنوں میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رواں سال چین میں جنوری سے اپریل تک 1.3ملین پیٹنٹ نئی درخواستں موصول ہوءٰں، جو ایک سال اس سے قبل 5.3اضافے کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس حوالے سے جاری اعدادوشمار کے مطابق گھریلو پیٹنٹ درخواستوں کی تعداد فروری میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں تینتیس فیصد تک بڑھ گئیں تھی، تاہم کرونا وباکے باعث رواں سال اس کی شرح میں صڑف دس فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔ اور رواں سال اپریل تک اس کی شرح میں پندرہ اعشاریہ سات فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔ وبا کے بعد فوری بحالی کے عوامل کے سبب مارکیٹ اداروں میں ڈیویلپمنٹ کے فعاک ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا، اور جدت پسندی اور دیگر مثبت عوامل کیساتھ اپگریڈیشن کی کوشش کو یقینی بنایا گیا ہے۔ کاروباری اداروں کے زریعے داخل کی گئی پیٹنٹ درخواستوں سے مثبت نمو حاصل کرنے والی انٹر پرائسز وہ پہلے فرمز تھیں جنہوں نے جنوری سے اپریل کے دوران 8.1فیصد اضافہ کیا، دوسری جانب کاروباری اداروں کی جانب سے اس عرصے میں 2,59,000پیٹنٹ درخواستیں داخل کی گئیں، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 4.2فیصد اور مجموعی طور پر4.8فیصد اضافے کیساتھ ریکارڈ کی گئیں ہیں۔
چین میں مجموعی طور پر 65,000کاروباری اداروں نے رواں سال کے ابتداعی چار ماہ میں پیٹنٹ درخواستں داخل کیں جن میں 29,000سے زائد ہائی ٹیکنالوجی کی حامل فرمز شامل تھیں۔ دوسری جانب ملک میں ابھرتی ہوئی صنعتیں جدت پسندی کے ساتھ نئی متحرک عوامل لیکر شامل ہو رہیں ہیں اور پیٹنٹ درخواستیں داخل کرنے والوں میں نئی نسل سے آئی ٹی سے تعلق رکھنے والے بیشتر انٹر پراؤسز شامل ہیں انٹر نیٹ، بگِ ڈیٹا، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوئی زہانت اور روبوٹکس کیساتھ نئے کاروباری ماڈلز کی جدید ترین ٹیکنالوجیز کی رفتار چینی معیشت کے برھوتری میں اہم ترین حصہ ادا کر رہی ہے۔ اور ملک میں مستحکم ترقی کے حوالے سے ایک نئی اور ٹھوس بنیاد فراہم کر رہی ہے۔ اسی طرح سے چین میں غیر ملکی انٹر پرائسز کی جانب سے پیٹنٹ درخواستین داخل کرنے کی شرح بھی مستحکم رہی ہے۔ اور جنوری سے اپریل تک غیر ملکی درخواست دہندگان نے چین میں ساٹھ ہزارپیٹنٹ درخواستیں داخل کیں ہیں، جو ایک سال میں پہلے کی نسبت سترہ فیصد کم ہیں، بیلٹ اینڈ روڈ ممالک سے ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریبا دس ہزار پیٹنٹ درخواستیں آئیں ہیں۔ جو گزشتہ ایک سال کے مقابلے مٰں تین فہصد سے زائد ہں اور بیرون، ممالک سے چین میں کل داخل ہونے والی پیٹنٹ درخواستوں کی شرح میں اس عرصے کے دوران پانچ فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔ اس طرح سے جی ای کے مطابق چین میں بین القوامی پیٹنٹ درخواستوں کے سلسلے میں چینی جدت پسندوں نے نمایاں استحکام حاصل کیا ہے۔ اسی طرح سے مقامی سطع پر پی سی ٹی ُیٹنٹ درخواستوں کی داخل کرنے کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق امریکہ جاپان اور جنوبی کوریا، کے حکام کو جمع کروائے گئے پیٹنٹ فائلز کی تعداد میں پہلے سال مٰں پندرہ فیصد تک اضافہ رئیکارڈ کیا گیا ہے۔ اس طرح سے چینی کاروباری کمپنیز نے پیٹنٹ کے زریعء سے ملک میں عوام کو مالی مشکلات کو ختم کرنے کی ایک مثبت کوشش کی ہے۔ دوسری جانب متعلقہ حکومتی اداروں کی جانب سے فوری پالیسز اور اقدامات کے زریعے سے کاروباری اداروں کی آسانی اور مدد کے لیے مختلف اعانتی عوامل کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے قرضوں کی جلد فراہمی اور دیگر امور کی انجام دہی کے حوالے سے ایک گرین چینل کا آغاز کیا گیا ہے۔ جنوری سے اپریل تک ملک بھر کے کاروباری اداروں نے پیٹنٹ عہد کے زریعے مجموعی طور پر 38.4بلین یوآن اکھٹا کیا، جس سے سالانہ اضافے میں پینتیس فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دورسی جانب پیٹنٹ درخواستوں کیساتھ گھریلو مارکیٹ کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اور ملک کی صنعتی تبدیلی اور اپ گریڈنگ میں وبا کے دوران مناسب استحکام ریکارڈکیا گیا ہے۔ اسی طرح سے چین میں غیر ملکی پیٹنٹ کی ایپلیکیشنز نے بھی ملکی معاشی استحکام میں اور چینی مارکیٹ کی توجہ حاصل کی ہے۔ اور غیر ملکی کاروباری ادارے چینی معیشت کے امکانات کے بارے میں بہت قوی حد تک پر امید ہیں اور چینی مارکیٹ کی طویل مدتی ترقی پر اعتماد کرتے ہیں۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں