94

چین کے دیہی علاقوں میں ای۔کامرس کا بڑھتا رجحان

خصوصی رپورٹ): چین کے دیہی علاقوں میں سامان کی بناتعطل ترسیل کے حوالے سے لاسٹ مائلز کی جانب جاری کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں اور چین میں دیہی علاقوں کے لوگ باآسانی اپنی مصنوعات کو ای۔کامرس پلیٹ فارم کی موجودگی میں خریدو فروخت کو یقینی بنارہے ہیں۔ اسکے برعکس ماضی میں چین کے دیہی علاقوں میں مقیم لوگوں کو اپنے پارسل حاصل کرنے کے لیے قریبی ٹاؤن کا رخ کرنا پڑتا تھا، تاہم لاجسٹکس سینٹرز کی تشکیل کے بعداب دیہی علاقوں میں مقیم لوگ باآسانی اپنے خریداروں کی جانب سے متعلقہ آرڈرز موصول ہونے کے بعد باآسانی اوربنا تعطل موثر لاجسٹکس نظام کی بدولت پراڈکٹس فوری روانہ کر سکتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں چین میں زرعی پیداوار پر کرونا وائرس کے ممکنہ اثرات دور کرنے کے لیے ای۔کامرس پلیٹ فارم ایک اہم ترین پلیٹ فارم کی صورت سامنے آیا ہے۔ اس تناظر میں چین میں وسیع پیمانے پر سرکاری عہدیداروں کی جانب سے کرونا لاک ڈاون کے حوالے سے لائیو سٹریمنگ کو مقامی خصوصیات کو اجاگر کرنے کے لیئے موثر انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے جنوب مشرقی چین کے صوبے ہونان کی ہیکو یاؤ خودمختار کاؤنٹی کے سربراہ نے مقامی پپیتے کو متعارف کرواتے ہوئے ایک رواں تبصرے میں کہا کہ بارش کے بعد تازہ گھاس اور درختوں کی خوشگوار مہک میں پکے پپیتے کی قدرتی خوشبوایک منفرد تجربہ اور زائقے کی حامل ہوتی ہے۔ اور اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ بڑے پیٹ والے زیادہ زائقہ محسوس کرتے ہئں، اس لائیو پروگرام کی مدد سے صرف آدھے گھنٹے میں چھ لاک پینسٹھ ہزار لوگوں نے دیکھا اور اس کی جانب راغب ہوئے، جس کی مدد سے 80ٹن پپیتا جلد ہی فروخت ہو گیا۔ چین کے عہدیداروں نے حالیہ دنوں میں لائیو سٹریمنگ پروگرامز کے حوالے سے خاطر خواہ نتائج حاصل کیئے ہیں۔ صوبہ انہوئی میں ڈانگشن کاؤنٹی کے سربراہ نے ستر ہزار کلوگرام ناشپاتی براہ راست سڑیمنگ کے زریعے سے فروخت کیئے ہئں۔ جبکہ جنوبی چین کے گوانگ ژونگ خودمختار خطے لائی کے سربراہ نے اسی طرح سے سوشل میڈیا پر رواں پروگرام کے دوران صرف دوگھنٹے کے وقت کے دوران بیس ہزار کلوگرام لیموں فروخت کیئے ہیں۔ اس حوالے سے حالیہ اعدادوشمار کے مطابق چین کے مقامی مئیرز اورکاؤنٹی سربراہان کی جانب سے ایک ماہ کی قلیل مدت میں چالیس ملین کلوگرام سے زائد زرعی پیداوار فروخت کی گئی ہئں۔اور یہ تمام تر فروخت چین کے لائیو سٹریمنگ پلیٹ فارم پینڈوڈو کی وساطت سے یقینی بنائی گئی ہے۔ یہ آن لائن ای کامرس پلیٹ فارم ہے، جو بڑے ڈسکاؤنٹ ریٹس کیساتھ بڑے سودے بازی کے لیے ایک اہم ترین فعال نیٹ ورک گردانا جا رہا ہے۔ اگرچہ چین میں ای۔کامرس زرعی پیداوار کی فروخت کو بڑھانے میں اہم اور معاون کردار ادا کر رہا ہے۔ لیکن چین کے دیہی علاقوں میں اس سے بیشتر ہر گھر میں اس آن لائن ٹریڈنگ کو اس سے قبل موثر انداز میں کبھی اس طرح سے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ ایک براہ راست پروگرام کی وساطت سے یا آن لائن اشیاء کی ٹریڈنگ مقامی اشیاء کے فروغ اور فروخت کے حوالے سہل معلوم ہوتا ہے۔ لیکن آن لائن ٹرانزیکشن، سامان کی نقل و حمل کو اسی صورت یقینی بنایا جا سکتا ہے جب آپ کے پاس سامان کی ترسیل کے حوالے سے لاجسٹکس اور متعلقہ معلومات کی فراہمی کے حوالے سے ایک موثر اور فعال میکنزیم موجود ہو۔ بیشتر دیہی علاقوں میں سامان کی ترسیل کے حوالے سے متعلقہ خدمات، زیادہ وزن، کم یونٹ قیمت، آرڈرز کی کم مالیت اور پارسل کی وصولی اور تقسیم کے حوالے سے بکھرے ہوئے مشکلات کا سبب بھی بنتے ہیں۔ اور یہ ہی وجہ ہیں کہ بیشتر کوریئرز کمپنیز صرف شہروں کی حد تک اپنے لاجسٹکس سینٹرز قائم کرتی ہیں۔ تاکہ اپنی لاگت کو کم کیا جا سکے۔ ایسے بیشتر مسائل کے حل کے حوالے سے چین کے لاجسٹکس نیٹ ورک آخری میل نے چین کے اسٹیٹ پوسٹ بیورو نے ایک تین سالہ پروگرام مرتب کیا ہے۔ جس میں واضح کیا گیا ہے کہ چین کے تمام انتظامی گاؤں 2022تک ترسیل کے حوالے سے تمام خدمات کو موثر بنانے کے لیئے پرعزم ہیں اس ایکشن پلان کے تحت ملک بھر میں دیہی سطع پر تیزی سے بڑھتی ہوئی ای۔کامرس کے سبب سروسز سینٹرز اورایکسپریس ترسیل کے سینٹرز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال شمال مغربی چین کے شانسی صوبے زاشوئی کاؤنٹی کے ایک گاؤں میں ای۔کامرس سروسز سینٹر قائم کیا گیا تھا۔ جس سے ایک گاؤں میں زرعی پیداروا اور زرعی پراڈکٹس کی فروخت کے حوالے سے نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ زاشوئی کاؤنٹی کے ہر گاؤں میں اس وقت ای۔ کامرس سینٹرز قائم ہو چکے ہیں اور کاؤنٹی کے تمام دہیات اور قصبیلاجسٹکس سروسز نظام کے ساتھ مربوط انداز میں منسلک ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہی جنوبی چین کے گوانگڈونگ صوبے کے ہوازو شہر میں آزادانہ طور پر تیار سمارٹ لاجسٹک نیٹ ورک کو آزمائشی بنیادوں پر شروع کیا گیا ہے۔ اس ٹریک کی تعمیر میں چھ سال کا عرصہ لگا ہے اور بنیادی طور پر مقامی ایکسپریس خدمات، غربت کے خاتمے اور مقامی صنعتی اڈوں، اور سامان کی منتقلی کی ضرویات کو اس سے بخوبی پورا کیا جا رہا ہے۔ یہ ٹریک اور نیٹ ورک مقامی بیس اسٹیشن، کیبل ویز، شٹل روبوٹ، اسٹور ہاؤس، کو متعلقہ سامان اور دیگر اشیاء کی فراہمی تیزی سے ایک گھنٹے کی قلیل مدت میں فراہم کرنے کی استطاعت رکھتا ہے۔ اس بیس اسٹیشن پر کسانوں کو سامان نیچے وادی میں بھیجنے کے لیے ایک شٹل روبوٹ استعمال کیا جاتا ہے جو کیبل وے کے ساتھ سامان کو کم قیمت پر ٹاؤن لیول بیس اسٹیشن تک پہنچا دیتا ہے۔ اس طرح سے اس گاؤں کے ملک بھر سے بھیجے گئے سامان کے آن لائن پارسل ایسے ہی با آسانی حاصل ہوتے ہیں۔ اس طرح کے سمارٹ اور ہلکے پھلکے ٹریک کی مدد سے تیز تعمیرات، کم وسائل اور کم حجم اور اعلی دیہی علاقوں میں بہترین خدمات فراہم کر رہے ہیں اسی طرح جدید ٹیکنالوجیز بشمول کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے زریعے سے ان کی استعداد کار کو مزید بہتر کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح سے یہ وہ بنیادی عوامل ہیں جن کی مدد سے چین آن لائن ٹریڈنگ کے زریعے سے اپنے دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے کو یقینی بنا رہا ہے۔ اس طرح سے چین مختلف علاقوں کے اصل زمینی حالات کو جدید ٹیکنالوجیز کی مدد سے بہتر انداز میں استوار کیا جا رہا ہے۔ اوراس طرح سے لاجسٹک سروسز کے نیٹ ورک کو بہتر بنا کر چین میں دیہی سطع پر لوگوں کے معیارِ زندگی کو کامیابی سے بہتر بنایا جا رہا ہے۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں