18

جیوے جیوے پاکستان – شاہانہ جاوید

ہم سب منفی پراپیگنڈے کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ کسی بھی چیز کا منفی پہلو پہلے دیکھتے ہیں چاہے یہ کسی شخص یا کسی جگہ کے بارے میں ہو. سندھ کے ضلع تھر کے بارے میں تو اتنی منفی باتیں پتہ چلیں کہ ہم اس طرف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے. سندھ کا دور افتادہ صحرا جہاں بھوک، قحط، پانی کی کمی، بیماری سے مرتے بچے، جانوروں کی اموات . تھر کول پراجیکٹ 2 کے دورے نے ان منفی تاثرات سے زائل ہی نہیں کیا بلکہ ختم کردیا ,

جی ہاں پی ایف سی سی کی طرف سے ہم اینگرو کمپنی کے مہمان تھے جس میں تھر کول پاور پراجیکٹ 2 کا تفصیلی دورہ اور ننگر پارکر کی سیر شامل تھی. کراچی سے سفر براستہ نیشنل ہائی وے تھا، تھر پارکر میں داخل ہوئے تو عصر کا وقت تھا، سیاہ کولتار کی سڑک ناگن کی طرح بل کھاتی دور تک نظر آرہی تھی، چاروں طرف صحرائی جھاڑیاں، درخت اور سبزہ نظر آرہا تھا اور ریت کا صحرا جو ہمارے ذہن پہ تھا دور دور تک دکھائی نہ دیا، تھوڑے تھوڑے وقفے سے تھری لوگوں کے جھونپڑے جو ” چونرا” کہلاتے ہیں دکھائی دیے، کہیں جھنڈ کی صورت کہیں الگ الگ، ہمیں بتایا گیا کہ جن گھروں پر نوک نکلی ہو وہ ہندوؤں کے ہیں اور جن کی چھت گول ہو وہ مسلمانوں کے ہیں.

تھر میں ہندو مسلمان مل جل کر رہتے ہیں اور کسی قسم کی مذہبی منافرت نہیں ہے. جانوروں کی صحت دیکھ کر بھی تھر کی خوشحالی کا اندازہ ہوا. راستے میں اونٹ، بیل، گائے، بکرے، بھیڑیں چارہ چرتے نظر آئے. پہاڑی پر اکا دکا مور بھی دکھائی دیے. کہیں کہیں ہینڈ پمپ بھی لگے تھے یعنی پانی موجود تھا. اکثر جگہوں پہ مرد عورتیں بچے کیکڑا میں سوار نظر آئے ۔پہلے تو ہم چونکے کیکڑا کسے کہا جارہا ہے۔ تب پتہ چلا کہ یہ تھر کی سواری ہے جو ایک چھوٹے ٹرک کے مشابہ ہوتی ہے اور یہ واحد سواری ہے جو ریت اور کچے راستوں میں بھی چلتی ہے . اینگرو کمپنی کی طرف سے تھر کول پراجیکٹ 2 میں ہمیں سب سے پہلے اس کے بارے میں بریفنگ دی گئی جس میں ہمیں بتایا گیا کہ کس طرح کوئلہ نکلے گا اور کس طرح بجلی بنے گی. پاکستان میں تھر میں تقریباً 175 بلین ٹن کوئلے کے ذخائر ہیں جو دنیا بھر میں موجود ذخائر کا ایک بڑا ذخیرہ ہے. سب سے بڑی بات کہ یہ کانیں ریگستان کی ہموار زمین کے نیچے ہیں.

1991 ء میں تھر میں کوئلہ کے ذخائر دریافت ہوئے لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر اس طرف توجہ نہیں دی گئی. اس کے علاوہ امپورٹ مافیا نے تھر کے کوئلے کے بارے میں غلط باتیں بھی پھیلائیں کہ یہ خراب کوئلہ ہے کام کا نہیں. سب سے پہلے ہمارے ملک کے سائنسدا ن ثمر مبارک کو کول سے بجلی بنانے کا خیال آیا انھوں نے اس پر کام بھی کیا لیکن کچھ ناگزیر وجوہات اور فنڈ ز کی کمی کی بنا پر پراجیکٹ1 بند کرنا پڑا. مئی 2013 میں سندھ حکومت اور اینگروجن پاور لمیٹڈ نے دوسری کمپنیز اور بنکوں کے تعاون سے کام شروع کیا. تھر کول کے ذخائر کو 13 بلاکس میں تقسیم کیا گیا. سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی نے بلاک 2 پر کام شروع کیا ،اس کا رقبہ 98 مربع کلو میٹر ہے. یہاں سے نکلنے والے کوئلے سے پانچ ہزار میگا واٹ بجلی بنائی جاسکے گی ،جو آئندہ 50 برس کی ضرورت پوری کرے گی. اس پر لاگت کا تخمینہ 50 بلین ڈالر ہے.

منصوبے کے مطابق فیز 1 سے 660 میگا واٹ بجلی کی 3 جون 2919 ءکو سپلائی شروع ہوجائے گی. جبکہ آہستہ آہستہ فیز 2 اور 3 سے 2025 ءتک یہ پیداوار 5000 میگاواٹ ہوجائے گی. 2028ء تک اس منصوبے کے لیے لیاگیا قرضہ واپس کردیا جائے گا اور عوام کو 2019 تک بجلی سستے نرخوں ملنے لگے گی. ایس ای سی ایم سی کے مطابق ہمارے تھر کے کوئلے کے ذخائر کے اوپر پانی کی تیس سے چالیس فٹ پانی کی پرت بھی موجود ہے جو خدا کی طرف سے ایک انعام ہے کیونکہ کوئلے سے بجلی بنانے کے عمل میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور پانی پہلے ہی موجود ہے اس پانی کو گورانو ڈیم میں جمع کیا جائے گا. کوئلہ تقریباً 160 میٹرز گہرائی میں ہے جبکہ اب تک 134 میٹرز کھدائی ہوچکی ہے.

اس مائن کا ہم نے سائٹ پر معائنہ بھی کیا، پاور پلانٹ بھی دکھایا گیا، وہاں بھی تیزی سے کام ہورہا ہے. یہاں بننے والی چمنی دنیا کی اونچی ترین چمنی ہے. اصل مشاہدہ یہ ہوا کہ اس پراجیکٹ کی بدولت تھر کی قسمت بدل رہی ہے کیونکہ بہترین سڑکیں بنائی جارہی ہیں، پراجیکٹ 2 میں جن تھری لوگوں کی زرعی زمین اور گھر آرہے تھے انھیں ایک ہزار مربع فٹ کے گھر بناکر دیے جارہے ہیں. جن میں ایک شادی شدہ جوڑا رہے گا اور اسے دس سے گیارہ ہزار روپے مہینہ بھی دیا جائے گا. تعلیم، صحت اور غریبوں پر تقریباً دو فیصد خرچ کیا جارہا ہے، تھر فاؤنڈیشن سکول بنا رہی ہےجہاں پچاس روپے فیس لی جائے گی. پینے کے پانی کے لیے کنوئیں کھودے گئے ہیں ۔آر او پلانٹ لگائے گئے ہیں، ایک بڑا پارک بھی بنایا جارہا ہے جس میں منی زو، جھولے اور جاگنگ ٹریک ہوگا.

ماروی کلینک میں دو شفٹوں میں کام ہورہا ہے . انڈس ہسپتال کی مدد سے اسےبڑے ہسپتال کی شکل دی جائے گی. جامعہ کراچی کی مدد سے چالیس ہزار درخت لگائے گئے ہیں اور مزید ایک ملین درخت اور لگائے جائیں گے. سب سے اہم بات جب کول سے بجلی بننے لگے گی تو اس کی راکھ بھی کام میں آئے گی اس سے اینٹیں اور ٹائلز بنانے کے کار خانے لگیں گے ، تھر کی خواتین کو اس سے زیورات بنانے کی تربیت دی جا ئے گی. پراجیکٹ میں مزدور، انجینئر اور ڈرائیور سب تھر کے لوگ بھرتی کیے جارہے ہیں، ڈرائیور میں اب تک 16 خواتین بھی شامل ہیں. ہم جسے ایک بنجر غیر آباد ضلع کہتے تھے وہ ہمارے ملک کی تقدیر بدلنے والا ہے، سچ ہے کبھی کھوٹا سکہ بھی کام آجاتا ہے. پاکستان غلط پالیسیوں کی وجہ سے بحران سے گزرا لیکن پاکستان کا مستقبل کامیابی کی طرف گامزن ہوچکا ہے، اللہ کی رضا سے میرے قائداعظم کا پاکستان ایک کامیاب پاکستان بننے جارہا ہے۔

(یہ تحریر براہ راست لکھاری کی طرف سے راولپنڈی ٹائمز کو بھیجی گئی )

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں