67

پاکستان کرہ اراض کا واحد ایسا ملک ہے جس کی بنیاد ایک نظریہ پر رکھی گئی اور

نبیل گورسی
دو قومی نظریہ کی تعریف
ngorsi8@gmail.com
پاکستان کرہ اراض کا واحد ایسا ملک ہے جس کی بنیاد ایک نظریہ پر رکھی گئی اور وقت کی سفاک طاقتوں سے اس نظریہ کو منوانے کیلئے اسلامیان ہند نے جو انگنت قربانیاں دیں اقوام عالم کی تاریخ میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ برسہا برس کی جدوجہد کے بعد ایک خدا، ایک رسولؐ اور ایک قرآن پر ایمان رکھنے والوں نے ایک قائد کی قیادت میں پاکستان اس نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں جس کا طرز زندگی، ثقافت اور دین سب سے الگ ہے۔ اس قوم کا کسی بھی دوسری قوم میں یا قومیت میں ضم ہونا قطعی طور پر ناممکن ہے۔
دو قومی نظریہ کیا یا اس کی بنیاد کیا ہے؟ اس کا انداز بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ کی اس تقریر سے کیا جا سکتا ہے جو انہوں نے 8 مارچ 1944 کو علی گڑھ یونیورسٹی میں طلبا کے اجتماع میں کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا۔ ’’پاکستان اس دن معرض وجود میں آ گیا تھا جب ہندوستان میں پہلا غیر مسلم مسلمان ہوا تھا‘‘ اسی طرح 17 نومبر 1945 کو بابائے قوم نے ایڈورڈ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’ہم دونوں قوموں میں صرف مذہب کا فرق نہیں، ہمارا کلچر ایک دوسرے سے الگ ہے۔ ہمارا دین ہمیں ایک ضابطہ حیات دیتا ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے ہم اس ضابطہ کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں
سوال یہ ہے کہ دو قومی نظریہ تخلیق آدم علیہ السلام سے کیسے شروع ہوا؟…. ابلیس نے اللہ کے حکم سے سرتابی کی اور اللہ نے اسے مردود قرار دے کر بھگا دیا۔ گویا ابلیس کو اللہ کے فرماں برداروں سے الگ شناخت دے دی گئی۔ ابلیس کی یہ شناخت اور بے دخلی اس کے رنگ، اس کی نسل، زبان وغیرہ کی بنیاد پر نہیں ، بلکہ نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے نظریاتی اختلاف پر اسی وقت اسے سزا نہیں دی، لیکن اس کی شناخت دوسروں سے الگ کر دی، اس طرح نظریئے کی بنیاد پر دو نظریات یا دو قومی نظریہ وجود میں آیا، پھر تمام پیغمبروں نے اس تقسیم کو برقرار رکھا، اسے مزید واضح کیا اور اس کی بنیاد پر فیصلے کئے۔۔۔
(جاری ہے)

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں