94

لکھاری کا کوئی قصور نہیں باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری

لکھاری کا کوئی قصور نہیں باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری
اور خبر یہ ہے کہ بھارت کے فوجی شہر شملہ میں ایک حاضر سروس کرنل نے اپنے ہی جونئیر ساتھی کی بیٹی کو ماڈل بنانے کی لالچ دے کر گھر بلا کر دوست سے مل کر اس سے اجتماعی زیادتی کی۔لڑکی کو ڈرایا کہ اگر تم نے کسی کو بتایا تو تمہارے باپ کا کیرئر خطرے میں ڈال دیا جائے گا۔گرچہ یہ خبر معمولی سی ہے اور اس پر لیکن کریں تو کریں کیا ہم اقتتدار واشنگٹن کو راضی کر کے حاصل کرنے کی سعی میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ایک کی گردن اڑائے جانے سے پورا معاشرہ اس خوف میں رہتا ہے کہ اگر مارا تو مارا جاؤں گا۔شنید ہے کہ اسلامی سزاؤں کا یہ قانون معلق ہے اگر ایسا ہے تو میں لکھے دیتا ہوں کہ سعودی عرب کا بدو معاشرہ قتل و غارت کی جانب چلا جائے گا اللہ نہ کرے۔میرے اس کالم سے اگر کسی کو پاکستان میں ہونے والے واقعے کا اشارہ ملتا ہو تو قاری کا اپنا قصور ہے ۔میں نے اپنی زندگی میں جو دیکھا اسے قلم کی زد میں لایا۔مجھے بھارت سے سخت نفرت ہے لیکن وہاں کا نظام عدل جو مثال قائم کر رہا ہے اسے داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ہمیں بھی اپنی اصلاح کرنا ہو گی۔اور اپنے اندر ڈر اور خوف کی بناء پر مزید خرابیاں پیدا ہونے سے بچناہو گا۔
ہو سکتا ہے کالم لکھنا مناسب نہیں سمجھا جائے ۔لیکن میرے ذہن میں اور سوچ میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ایک تو پاکستان اور بھارت کی فوج کا نظام ایک ہی ہے دونوں افواج برطانوی استعمار کی تیار کردہ ہیں اور ان کے ترقی و تنزلی کے نظام ایک ہیں۔دوسری اہم بات اس لڑکی کی دلیری ہے جس نے پولیس کو اطلاع کی تیسری اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے ملزم کو پولیس کے حوالے کیا جس نے کاروائی شروع کر دی ہے۔یہاں یہ بات اہم ہے کہ کیا ترقی اور تنزلی کے اس برطانوی نظام میں سقم ہے یا نہیں اس لئے کہ ایک شخص اس کو اپنی ذات کے لئے استعمال کر کے کسی کا مستقبل تباہ کر سکتا ہے۔جی ہاں ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ اس قسم کے اوباش لوگوں کے گھروں میں ڈاکہ ڈالتے ہیں اور پھر والدین کی مجبوریوں کو اپنے حق میں استعمال کر لیتے ہیں۔اس نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے ترقی و تنزلی ایک اے سی آر یا رپورٹ پر نہیں ہونی چاہئے اس طرح بہت سے اچھے آفیسر آگے بڑھنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔یونیورسٹیوں میں نظام تعلیم جس میں اساتذہ کے پاس نمبر دینے کی مکمل طاقت ہوتی ہے اس سے سے بھی بگاڑ کی صورت حال پیدا ہو رہی ہے۔پنجاب یونیورسٹی کے حالیہ ہنگاموں اور خاص طور پر ایک واقعے کے پیچھے بھی استادوں کی یہ اندھی قوت ہے جس کا حتجاج غلط انداز میں کیا گیا۔ میں یہاں بھارتی نظام عدل کی تعریف کئے بغیر نہیں رہا جا سکتا جس نے ایک منہ زور کرنل کو لگام دی اور وہ بھی حاضر سروس کو۔کسی کے ذہن میں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ یہ کیس کرنل مقابل کرنل کی بیٹی کے تھا۔لیکن جراء ت اور مردانگی اس بیٹی کی ہے جس نے خوف اور شرم کو بالائے طاق رکھ کر پولیس میں رپورٹ کی۔یہ ڈر اور خوف ہی جو ہمارے معاشرے کے درندوں کو پناہ دئے ہوئے ہے۔ہمارے ہاں یہ رواج بھی دیکھا گیا کہ اگر اس قسم کا خونخوار بھیڑیا اگر گھر میں داخل ہو کر قبیح حرکت کرتا ہے تو اہل خانہ ڈر کی وجہ سے اس کا نکاح اس بے غیرت بے ضمیر شخص کے ساتھ کر دیتے ہیں ۔ہونا تو یہ چاہئے کہ پولیس رپورٹ کر کے اسے قرار واقعی سزا دلوائی جائے تا کہ اس قسم کے اوباش غنڈوں کو پتہ چل جائے کہ کسی کی بیٹی کی کیا قدر و قیمت ہے۔ایسے لوگ شائد کسی بہن کے بغیر پیدا ہوتے ہیں۔ایک بات یاد رکھی جائے کہ اگر وہ گھر کے داماد بن بھی جائیں تو ساری زندگی سگ آوارہ والی گزارتے ہیں انہیں کبھی احترام کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اکثر اوقات ایک کامے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ان کی کسی قسم کی عزت افزائی اگر ہو بھی جائے تو اسے مجبوری سمجھ کر قبول کیا جاتا ہے۔ایسے لوگ زمزم سے بھی نہا آئیں تو ان سے گھن آتی ہے۔
جدہ میں قیام کے دوران ایک اسی قسم کے کھلنڈرے سے واسطہ رہا ہے جو کچھ اس کے ساتھ سلوک کیا جاتا تھا یقین کیجئے ایک عام انسان برداشت نہیں کر سکتا تھا موصوف فجر کی نماز کے ساتھ اٹھتے اور رات گئے گھر واپس آتے سر پر پٹکا باندھے مکہ مکرمہ کے پاس ایک کارخانے کو بنانے میں مٹی کی مشینوں کی آلودگی سے لتھڑے اس گھر داماد جبری کی حالت اگر بیان کی جائے تو تو بندہ بس پڑھتا ہی رہے ایسے لوگ جب کسی کو ناجئز بیٹی کے باپ ہونے کا طعنہ دیتے ہیں تو قلیجہ منہ کو آتا ہے۔ہمارے معاشروں میں داماد کی عزت بہت زیادہ ہوتی ہے خاص طور پر وسطی پنجاب میں داماد سب سے پہلے یعنی داماد فرسٹ ہوتا ہے گھر میں دوسرے ہونے والے رشتے دیگر معاملات میں داماد کی رائے وزنی ٹھہرائی جاتی ہے۔داماد بھی اس گھر کے بڑے بیٹے کا کردار ادا کرتا ہے۔لیکن مہاشے اگر ناجائز ذرائع سے داماد بنیں تو وہ عزت اور مقام نہیں پا سکتے جو اصلی اور سچے داماد کا ہوتا ہے۔داماد بلجبر اور بالرضا میں بہت فرق ہوتا ہے۔بھارتی لڑکی کے کیس میں اگر کرنل صاحب اس کے پھیرے لگوا دیتے تو تو شائد نہ یہ خبر چھپتی اور نہ ہی کالم لکھا جاتا ۔لیکن وہاں یہ کام ہو انہیں۔ جونیئر کرنل کی دلیر بیٹی نے گرگ ظالم ۵۶ سالہ کرنل جو اس کے ابا کا سینئر تھا اس کی دست درازی اور ہراساں کرنے کی جسارت کو پولیس کے سامنے پیش کر دیا۔کمال یہ ہے کہ پولیس نے ایف آئی آر کاٹی اور معاملے کو عدالت کے سامنے چالان کی صورت میں پیش کر دیا۔یہاں بھارتی نظام عدل کو سراہنا ہو گا۔ہمارے ہاں اس قسم کے واقعات کی کمی ہوتی ہے فوج کا اپنا نظام عدل یہاں اپنے بندوں کے خلاف کاروائی کرتا ہے بلا شک و شبہ وہ نظام درست ہے لیکن جمہوریت کے لوازمات کچھ اور ہوتے ہیں۔دیکھتے ہیں یہ کیس کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
بھارتی لڑکی کی دلیری کو سلام۔یہاں ذہن میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اس قسم کی لڑکی بھی تو اوباش ہو سکتی ہے۔جو اس گناہ کبیرہ میں ملوث ہو کر ماں باپ کی عزت کو تار تار کرنے میں پیش پیش ہو۔لیکن یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اسلام نے ہر مسئلے کا حل پیش کر رکھا ہے لڑکی کی ماں ایک طرح کی بیٹی کی سہیلی بھی ہوتی ہے اسے راز دار بنا کر مناسب حلال حل نکالا جا سکتا ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ بلا دودھ کے برتن میں منہ مارے تو اسے عزت دے دی جائے۔ اور معاملے کو قالین کے نیچے دبا دیا جائے۔
شملہ میں ہونے والے اس واقعے کی کئی جہتیں ہیں۔اس میں سب سے زیادہ توجہ طلب نوجوان نسل کا اور خاص طور پر ماڈلنگ کی جانب رغبت رکھنا ہے۔ماڈلنگ کوئی برا شعبہ نہیں لیکن لڑکیوں کو نیٹ ٹیلی ویزن پر ہونے والے ڈراموں کی چکا چوند نے متآثر کیا ہوا ہے۔جو چیز سکرین پر نظر آتی ہے پردے کے پیچھے جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے اس سے مختلف ہوتا ہے۔خواتین کے لئے کام کے مواقع اور بھی بہت ہیں۔شعبہ ء تعلیم تو ان کے لئے سب سے بہتر ہے لہذہ اس دنیاوی چمک سے ہٹ کر سوچیں۔
میں ان سے یہ بھی درخواست کروں گا کہ وہ شرم پردے کے نام پر بلیک میل نہ ہوں۔بھارتی سینا کے کرنل کی بیٹی ایک دلیر بیٹی ہے اس طرح کی بہادری کا مظاہرہ اگر پاکستانی بیٹیوں کا ہوتا تو ملک عزیز بہت سے فتنوں سے بچ سکتا تھا۔پنجابی میں کہتے ہیں ڈلیاں بیراں دا کج وی نئی گیا(جو بیر گر جائیں وہ سلامت رہتے ہیں)بھارت کے فوجی شہر شملہ میں ہونے والے اس واقعے کی کوئی مماثلت اگر پاکستان میں پائی جاتی ہو اور پڑھنے والا اسے اس طرف لے جائے تو اس میں کالم نویس کا کوئی قصور نہیں آخر ہم بھی انسان ہیں ہمارے ہاں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کیا ہم اور ہمارا قانون اس ہمسائے کے قانون کی طرح معاملے کو ہاتھ میں لیتا ہے یا نہیں۔قومیں سچ پوچھیں تو عدالتوں کے فیصلوں میں بنتی بگڑتی نظر آتی ہیں۔ہم نے ماضی قریب میں اس پرنس کا واقعہ دیکھا جو بادشاہت میں وقع پذیر ہوا شہزادے کا سر قلم کر دیا گیا اس لئے کہ وہاں کے نظام عدل میں یہ گنجائش تھی کہ اسے والدین معاف کر دیتے مگر مقتول کے ماں باپ نے اپنے بیٹے کے سر کے بدلے میں سر لیا۔آج ہم اسلامی نظام عدل کا مذاق اڑاتے ہیں اسے وحشیانہ قرار دیتے ہیں بی بی نے ایک بار یہ گستاخانہ جملے کہے تھے دیکھ لیجئے اب ان کے قاتل کہاں ہیں اور وہ خود کہاں ۔اگر گردن کے بدلے میں گردن اور آنکھ کے بدلے آنکھ لی جائے تو معاشرے میں امن ہو جائے۔لیکن کریں تو کریں کیا ہم اقتتدار واشنگٹن کو راضی کر کے حاصل کرنے کی سعی میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ایک کی گردن اڑائے جانے سے پورا معاشرہ اس خوف میں رہتا ہے کہ اگر مارا تو مارا جاؤں گا۔شنید ہے کہ
اسلامی سزاؤں کا یہ قانون معلق ہے اگر ایسا ہے تو میں لکھے دیتا ہوں کہ سعودی عرب کا بدو معاشرہ قتل و غارت کی جانب چلا جائے گا اللہ نہ کرے۔میرے اس کالم سے اگر کسی کو پاکستان میں ہونے والے واقعے کا اشارہ ملتا ہو تو قاری کا اپنا قصور ہے ۔میں نے اپنی زندگی میں جو دیکھا اسے قلم کی زد میں لایا۔مجھے بھارت سے سخت نفرت ہے لیکن وہاں کا نظام عدل جو مثال قائم کر رہا ہے اسے داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ہمیں بھی اپنی اصلاح کرنا ہو گی۔اور اپنے اندر ڈر اور خوف کی بناء پر مزید خرابیاں پیدا ہونے سے بچانا ہو گا۔بھارتی شیر بچی کو سلام اسے کہتے ہیں سیکھ نہ سیکھ ہمسائے سے سیکھ۔پھر لکھے دیتا ہوں واقعات کی مماثلت میں لکھاری کا کوئی قصور نہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں