38

پاکستان میں لائیو سٹاک کا شعبہ او ر اقوام متحدہ کے زیر اہتمام برلن کانفرنس

تحریر ارشد محمود
پاکستان کا شمار بلا شبہ زرعی ممالک میں ہوتا ہے او ر زراعت کو اس کی معیشت کا بنیادی جزو قرار دیا گیاہے جب کہ افزائش مال مویشی (لائیو سٹاک) کو اس کا اہم حصہ بلکہ ذیلی شعبہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے او ر پاکستان کی تقریباً 35ملین دیہاتی آبادی کا بالواسطہ یا بلا واسطہ انحصار اس شعبہ پر ہے افزائش مال مویشی کو زراعت یا کھیتی باڑی کے بعد دیہات میں سب سے بڑی صنعت یا معاشی سرگرمیوں کا محور قرار دیا جا سکتا ہے جانوروں کی افزائش اور خریدو فروخت ہمارے کسانوں کی مالی حالت سدھارنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے تمام تر حکومتی کاوشوں کے باوجود بد قسمتی سے ابھی تک گراس روٹ لیول پر ایک عام مویشی پال کسان ان اقدامات سے محروم ہے جو افزائش حیوانات کے ضمن میں اس کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں ایک بات یہ بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ لائیو سٹاک کے حوالے سے بااثر اور بڑے زمیندار تو حکومتی پالیسیوں سے فیض یاب ہو رہے ہیں لیکن عام کسان تک ان سہولیات کی رسائی مشکل ہے ملک کی بڑھتی ہو ئی آبادی کے ساتھ ساتھ گوشت اور دودھ کی مانگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور مستقبل قریب میں اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے ایک مربوط حکمت عملی کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اس کے علاوہ یہ امر بھی قابل ذکر اور قابل غور ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ تقسیم در تقسیم کی وجہ سے زرعی زمین کا رقبہ بھی کم سے کم ہوتا جارہا ہے جس کی بدولت زراعت اور لائیو سٹاک میں سخت مقابلے کی فضا پیدا ہو چکی ہے دنیا بھر میں جدید تحقیق سے برسوں قبل یہ عوامل ثابت ہوچکے ہیں کہ دیہی جانوروں کی پیداوار بڑھانے اور پھر افزائش نسل کے لئے مویشی پال کسانوں کو اس امر کی تربیت دینی پڑے گی کہ جانوروں کو موسم کے لحاظ سے کس قسم کی خوراک دینی چاہئے جانوروں کے لئے صاف ستھری رہائش کیسی ہونی چاہئے انھیں بروقت حفاظتی ٹیکے لگنے کا بندوبست کرنا چاہیے بیماریوں کا علاج کیسے ممکن ہو اور پھر ان کی افزائش نسل کا طریقہ قدرتی یا مصنوعی ہونا چاہیے یہ بات ہم پہلے ہی کر چکے ہیں کہ پاکستان کی آبادی کا 65فیصد سے زائد حصہ دیہات میں رہائش پذیر ہے اور زراعت کے بعد لائیوسٹاک ایسا شعبہ ہے جو دیہی علاقہ جات کی دوسری معاشی سرگرمی کہلاتا ہے ماضی میں سرکاری سطح پر متعدد بار یہ کاوشیں کی گئیں کہ لائیو سٹاک کے شعبہ میں جدید تحقیق کے حوالے سے جدت لائی جائے لیکن بد قسمتی سے یہ کاوشیں ثمر آور ثابت نہیں ہو سکیں جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ کاوشیں چھوٹے کسانوں یاکم زمین کے مالکان کے لئے نہیں کی گئیں اور ہمیشہ بااثر اور بڑے زمیندار اس سے فائدہ اٹھاتے رہے حالانکہ مویشی پال کسانوں کی اکثریت کا تعلق چھوٹے یا متوسط طبقے سے ہے زرعی ماہرین سائنسدانوں اور لائیو سٹاک کے دیگر ماہرین کی رسائی ان چھوٹے کسانوں تک بالکل نہیں ہے
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں پچاس ملین سے زائد بھینسیں بشمول دودھ دینے والے دیگر جانور پائے جاتے ہیں دنیا بھر میں پائی جانے والی 75% بھینیسیں ایشیا میں پائی جاتی ہیں جن میں 14% بھینسیں پاکستان میں پائی جاتی ہیں 1997 میں کئے گئے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے FAO کے ایک سروے کے مطابق دنیا کی بہترین بھینس پاکستان میں پائی جاتی ہیں جسے Black Gold of Asia کا نام دیا گیا ہے اس کی دودھ دینے کی اوسط مقدار 1800سے 2500لٹر ہے جب کہ بعض میں یہ مقدار 6ہزار لٹر تک بھی جا پہنچتی ہے دنیا بھر میں چار قسم کی بھینسیں پائی جاتی ہیں لیکن پاکستان پر یہ قدرت کا خاص کرم ہے کہ یہاں پر دنیا کی بہترین دودھ دینے والی بھینسوں کی نسل موجود ہے جس میں پنجاب کی نیلی سر فہرست ہے جب کہ پیداوار کے حوالے سے دوسری نسل سندھ بلوچستان میں پائی جاتی

ہے ہماری اس سے بڑھ کر بد قسمتی کیا ہوگی کہ دودھ کی پیداوار میں بھی سرفہرست ہونے کے باوجود ہم اس نظام کو باقاعدہ صنعت دینے میں ناکام رہے اس ضمن میں لائیو سٹاک اور اس سے متعلقہ محکمے تو موجود ہیں لیکن ان کی کارکردگی دوردراز دیہات کے ان مویشی پال کسانوں تک صحیح معنوں میں نہیں پہنچ پائی جنھیں اس شعبے کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جا سکتا ہے صوبہ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ کہلایا جاتا ہے اس میں 49%گائے 65%بھینس24%بھیڑیں اور 37%بکریاں پائی جاتی ہیں یوں پنجاب پورے پاکستان کا 62% دودھ43%موٹا گوشت اور 32% فیصد مٹن پورا کر رہا ہے اگر لائیو سٹاک میں سرکاری سرپرستی کو موثر بنایا جائے تو یہ مقدار کہیں زیادہ ہو سکتی ہے
دنیا بھر کے عوام کو معیاری خوراک کی فراہمی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیمFAOنہایت موثر طریقے سے 130ممالک میں کام کر رہی ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے 18 سے 20 جنوری 2018ء تک جرمنی کے شہر برلن میں Global Forum for Food & Agriculture بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے جس میں بالخصوص لائیو سٹاک کے حوالے سے دنیا بھر کے وزراء اور دیگر متعلقہ شعبہ جات کے ماہرین شرکت کر رہے ہیں اس کانفرنس کا اہتمام جرمنی کی فیڈرل منسٹری آف فوڈ اینڈ ایگریکلچر نے کیا ہے فورم میں دنیا بھر کے زراعت و لائیو سٹاک کے ماہرین کو ایک دوسرے سے تبادلہ خیالات کا بہترین موقع میسر آئے گا

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں