101

مسئلہ فلسطین ، عالمی ایجنڈا اور ہماری ذمہ داری

مسئلہ فلسطین ، عالمی ایجنڈا اور ہماری ذمہ داری
ارض فلسطین جہاں انبیائے کرام کی بعثت ہوئی، نبی ﷺنے جہاں سے معراج کیلئے رخت سفر باندھا،اسکو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مسلمانوں نے فتح کیا لیکن حالات بدستور قائم نہ رہے جس کی بنیاد پر دوبارہ یہودیوں کے استعماری چنگل میں چلا گیا۔ یہودیوں نے اس پر1097ء میں اپنا قبضہ جمایا پھر اسلام کے مردمجاہد سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1352ء میں یہودیوں کے چنگل سے آزاد کرایا۔
مرد مجاہد سلطان صلاح الدین ایوبی کی کامیابی کے بعد یہودیوں نے ایک باقاعدہ تحریک قائم کی جس کو صہیونی تحریک کہاجاتا ہے۔
صہیونیت تنظیم کو متحرک اور فعال بنانے میں یوں تو پوری دنیا کے یہودی شریک ہیں مگر چند لوگ ان تمام میں سے سرفہرست ہیں جن کو تاریخ کبھی بھلا نہیں سکتی، موسی ھیس ،لیولبیکر، حاخام،زفی کالیشراور ہرتزل ، ان تمام کی یہ فکر تھی کہ ارض فلسطین کو یہودیوں کاقومی وطن بناکراسی تنظیم کے حوالے کردیاجائے . اس منظم تحریک کا آغاز17ویں صدی عیسوی میں ہوچکاتھا۔
ہرتزل نے اگست 1897ء میں سوئٹزرلینڈ کے مقام باسیل میں ایک عالمی کانفرنس بلائی اوراس کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے اس نے کہا ’’ ہم یہاں اس گھر کے سلسلے میں اساسی پتھر رکھنے کیلئے جمع ہوئے ہیں جو عنقریب یہودی امت کیلئے پناہ گاہ ثابت ہوگا‘‘ہرتزل بڑا متعصب اور فتنہ رچانے میں بہت ماہر تھا۔ 1897ء کو سلطان عبد الحمید کو اپنا ہم خیال بنانے کے لئے 6 سال تک مسلسل کوشش کی لیکن سلطان نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ’’ ہرتزل کو فلسطین میں ایک یہودی ریاست بنانے کی کوشش ترک کردینی چاہیئے ۔یہودیوں کو فلسطین اسی وقت مل سکتاہے جب عثمانی سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے‘‘ جب سلطان کی حمایت نہ مل سکی تو ہرتزل سیدھے بر طا نیہ پہنچ گیا ۔جب ترکوں سے لڑائی شروع ہوئی تو حکومت بر طا نیہ راضی ہوگئی، اس مقصد کے واسطے برطانیہ نے 1917ء میں یہودیوں سے ایک خفیہ معاہدہ کرلیا جو اعلان بالفور کے نام سے مشہور ہے۔برطانوی وزیر خارجہ ’’لارڈ بالفور ‘‘ نے 27 نومبر 1917ء میں فلسطین میں یہودیوں کی آبادی کی مناسبت سے ایک الگ ملک قائم کرنے پر زور دیا۔
دوسری جنگ عظیم سے ہوش سمبھالنےکے بعد برطانیہ نے 1947 میں فلسطین کا معاملہ اقوام متحدہ کے حوالے کردیا ،چنانچہ برطانیہ نے اعلان کردیا کہ وہ فلسطین سے اپنی حکومت 15 مئی 1948 کو ختم کردے گا
اسی سال 29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک غیر اخلاقی اور غیر قانونی قرارداد منظو رکرائی گئی جس میں فلسطین کو دوحصوں میں تقسیم کردیا گیا ۔

یو این او کی بنائی گئی کمیٹی کی ظالمانہ تقسیم کے مطابق 7۔54 فیصد کے علاقے پر صرف 6 فیصد پر یہودیوں کی ریاست اسرائیل بنادی گئی
8۔44 فیصد فلسطین کو 94 فیصد فلسطین کے مالک مسلمانوں کے پاس رہنے دیا گیا جبکہ قدس اور بیت لحم شہر کے 5۔0 فیصد کو بین الاقوامی درجہ دے دیا گیا ،
فلسطینیوں نے اس ظالمانہ تقسیم کو مسترد کیا جس کے رد عمل میں صیہونیوں نے فلسطینیوں پر تابڑ توڑ حملے شروع کئے
بیت المقدس میں کنگ ڈیوڈ ہوٹل کو اڑا کر جہاں سینکڑوں بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اس کے ساتھ ساتھ دنیا میں پہلی بار دہشت گردی کا آغاز بھی کیا گیا ،
1948 میں اسرائیل نے فلسطین کے مسلمانوں پر باقاعدہ بڑے پیمانے پر عسکری کمانڈو حملےکرکے بیت المقدس کے مغربی حصے اور کچھ دیگر علاقوں پر قبضہ کیا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے
اس ظلم وجبر کے ساتھ روس یورپ اور بالخصوص امریکہ کی مدد سے یہودیوں نےا پنی دوہزار سال پرانی آرزو یہودی ریاست اسرائیل کا 14 مئی 1948 کو باقاعدہ اعلان کردیا
اقوام متحدہ کی پہلی غیر منصفانہ قرارد اد سے لیکر آج تک تقریبا سات دہائیوں سے فلسطینی مسلمان اس ظلم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں ،
ماؤں کی گودیں اجڑ تی رہیں ، پھول جیسے بچے یتیم ہوتے رہے ، پاک دامن بچیوں کی عزتیں تار تارہوتیں رہیں ، بوڑھوں کی بزرگی کو پامال کیا گیا ، خواتین کی عزت وعفت کو پامال کیا گیا ، جوانوں کو ابدی نیند سلا یا گیا ،
یہ سب کچھ اہل فلسطین پر بیت رہا تھا اور امت مسلمہ تماشہ دیکھ رہی تھی ،
پہلے زخم تاحال تازہ تھے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سامراج کے برسوں پہلے ایجنڈے کی تکمیل کا اعلان کرکے امت مسلمہ اور خصوصا اہل فلسطین کے ان زخموں پر نمک چھڑک کر مسلمانان عالم کے ایمانی جذبات کو مشتعل کردیا ،
لیکن اب کی بار صرف فلسطینی ہی نہیں بلکہ دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے مسلمان قبلہ اول کے دفاع کے لیے جان ،مال کی بازی لگانے سے گریز نہیں کریں گے ،
جس کی جھلکیاں امریکی صدر کے احمقانہ بیان کے بعد ہم مختلف ممالک میں دیکھ رہے ہیں ،
تنگ آمد بہ جنگ آمد کی مصداق امت مسلمہ اب کی بار کسی کو خاطر میں نہیں لائے گی ،اس ساری صورتحال میں دیگر اسلامی ممالک کا اپنا اپنا کردار وہ اپنے اندازے کے مطابق ادا کریں گے ، لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اس گھڑی میں امت مسلمہ کی عمومااور اہل فلسطین کی نظریں خصوصا پاکستان کی اوپر جمی ہوئی ہے ،
امت مسلمہ کے لیڈر ہونے کے ناطے ، واحد اسلامی ایٹمی قوت ہونے کے ناطے اور دنیا کی طاقتور فوج رکھنے کے ناطے مظلوم مسلمان پاکستان سے بہت بڑی امیدی لگا بیٹھے ہیں ، اس وقت ظلم کی چکی میں پستے مظلوم مسلمان چاہے وہ فلسطین میں ہوں یا کشمیر میں عراق میں ہوں یاشام میں برما میں ہوں یا افغانستان میں سب کی نگاہیں پاکستان ، ترکی اور سعودی عرب پر جمی ہوئیں ہے ۔
اس لیے اہلیان پاکستان کو بیدار ہونا ہوگا اور اپنی دینی جذبات کا اظہار کرنا ہوگا ، دنیا کو دیکھانا ہوگا کہ پاکستان کے ہوتے ہوئے حرمین شریفین اور قبلہ اول بیت المقدس کے حوالے سے یہود ونصاریٰ کے مذموم مقاصد کبھی بھی پورے نہیں ہو سکتے ۔
عبداللہ عالم زیب
یہ تحریر براہ راست راولپنڈی ٹائمز کو موصول ہوئی ہے

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں