477

آج سے ٹھیک ایک سو سال پہلے 8 دسمبر ء1917 کی رات ترکوں نے بیت المقدس خالی کر دیا تھا۔

آج سے ٹھیک ایک سو سال پہلے 8 دسمبر ء1917 کی رات ترکوں نے بیت المقدس خالی کر دیا تھا۔
وہ مقصد جو عیسائی ۱۲ صلیبی جنگیں لڑنے کے بعد بھی حاصل نہ کرسکے تھے وہ مقصد انہوں نے مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑا کر آسانی سے نا صرف حاصل کر لیا بلکہ یہ راز بھی جان لیا کہ اس قوم کو میدان جنگ میں تو شکست دینا ممکن نہیں مگر سازشوں کے جال بن کر انہیں آپس میں لڑا کر با آسانی شکست دی جا سکتی ہے۔ ان کی اب تک کی کامیابیاں اسی سازشی پالیسی کی مرہون منت ہیں۔
ان سازشی پالسیز کا جائزہ لیا جائے تو ایک بات جو سمجھ آتی ہے وہ یہ کہ اسلام کو سب سے زیادہ نقصان مفاد پرست، ایمان فروش دین کا لبادہ اوڑھے علماء نے پہنچایا۔
یہود و نصاریٰ کے تھنک ٹینکوں نے انہیں دین فروش رہنماوں کو استعمال کرتے ہوئے دین حق میں ملاوٹ کی جن کا تذکرہ مغربی دانشوروں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔
شاید یہ انہیں سازشوں یا ملاوٹوں کا ثمر ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں فرقہ واریت اپنے عروج پے ہے۔ ابھی صورت حال یہ ہے کہ ہر ایک فرقہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں دانستہ یا نادانستہ استعمال ہوتے ہوئے دوسرے فرقہ جات کو نا صرف کافر سمجھتا ہے بلکہ ان کے خلاف مہم جو بھی ہے۔ اور وہ پوٹینشل جو یہود و نصاریٰ کے خلاف استعمال ہونا چاہیے تھا وہ ہم آپس میں لڑ کر اور ام مسلمہ کو کمزور کرنے پر صرف کر رہے ہیں ۔ جس کی مثال ایسے ہے کہ ہمارے فرقہ جات ہمیں جہاد صرف خود منتخب کردہ مخصوص فرقوں کے خلاف کرنا ہی بتاتے ہیں کیونکہ امریکہ اور اسرائیل والے تو ان فرقہ پرستوں کو صرف وسائل مہیا کر سکتے ہیں ناکہ اپنے ملکوں کے ویزے جو یہ ان کے خلاف جہاد کر سکیں۔
باقی کوئی دعوت و تبلیغ کو اپنی نجات کے لیے کافی سجمھتا ہے۔اور کوئی صرف بھنگ کے نشے میں ہی عشق حقیقی کو ڈھونڈ رہا ہے۔ کوئی صرف اپنی عبادات پے نازاں ہے تو کوئی سنت پے عمل کیے بنا ہی عاشق رسول صلی الله علیه و آله وسلم بن جانا چاہتا ہے۔
حد تو یہ ہوگی ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جوفرقہ تو دور کی بات اپنی خالص سیاسی دین مخالف جماعت کی پالسیز کا دفاع ایسے بہودہ دلائل سےکرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے انہوں نے کبھی مرنا نہیں۔
جبکہ فتنے کے اس دور میں جہاں امت مسلمہ اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے لا تعداد مسائل کا شکار ہے اور اس حال میں ہمیں جتنا ابھی اتحاد کی ضرورت ہے اتنا شاید پہلے کبھی ہو۔ مگر باوجود اس کے کہ دنیا اس وقت اب تک کے سب سے بڑے فتنے “دجال” جس کے بارے میں تمام انبیاءعلیہ السلام نے متنبہ کیا تھا کے قریب آ چکی ہے۔ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت بنا نا اسی عمل کی ایک کڑی ہے۔
اورہم اس نازک وقت میں بھی بجائے آپس میں اتحاد قائم کرنے کے ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کی سعی کر رہے ہیں۔
وہ امت جیسے رسول صلی الله علیه و آله وسلم نے اپنے اخلاق اور کردار سے مسلمان بنایا اسی امت مسلمہ کو آج یہ ایمان فروش اپنے فرقوں کے مفاد میں کافر ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ اصل کافر ہم سب کی باری باری گردنیں کاٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
افسوس تو یہ ہے کہ ہم فرقہ واریت میں اس حد تک جا چکے ہیں کہ اب امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر کھٹرا کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے ، اور اسے مشکل ہمارے دین فروشوں نے یہود و نصاریٰ کی سازشوٍں پرعمل کرتے ہوئے کیا ہے۔ جبکہ اللہ کا قرآن تو اہل کتاب تک کو اصلاح کی دعوت دیتا ہے جیسے ۔ ارشاد ہے۔
“کہہ دو: اے اہلِ کتاب! اس چیز کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں مشترک ہے ۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا رب ٹھہرائے ۔ اگر وہ اس چیز سے اعراض کریں تو کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو مسلم ہیں ۔”سورة آل عمران (3) آیات (64)
اور یہاں ہم ہیں کہ اپنے فرقہ کے علاوہ کسی کی بات تک نہیں سننا چاہتے۔ باوجود اس کے کہ قرآن میں ہے
“اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو” ۔ آل عمران، 3 : ١٠٣
ایک اور جگہ ارشاد ہے۔
’’بیشک جن لوگوں نے (جدا جدا راہیں نکال کر) اپنے دین کو پارہ پارہ کر دیا اور وہ (مختلف) فرقوں میں بٹ گئے، آپ کسی چیز میں ان کے (تعلق دار اور ذمہ دار) نہیں ہیں۔”الانعام، 6 : 159
یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ مسلمانوں کے باہمی اتحاد کے بغیر دشمن کی سازشیں کامیاب ہوتی رہیں گی۔ ساتھ میں یہ بھی یاد رہے کہ قرآن کریم اور خانہ کعبہ کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالی نے لے رکھا ہے اور بیت المقدس کی آزادی امت مسلمہ کے اعمال سے مشروط ہے ۔ جب تک ہم آپسی اختلاف و انتشار اور تفرقہ بازی اور باہمی نفرت و عداوت کو بھلا کر اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق،باہمی اخوت و ہمدردی پیدا نہیں کریں گے۔ تب تک یہود و نصاریٰ اسطرح ہمیں دھمکاتے رہیں گے۔ یہی وقت ہے ہمیں اپنے قول و فعل کا جائزہ لینا ہوگا۔ نہیں تو دین فروش رہنما ہمیں یہود و نصاریٰ کے ایماء پے اسطرح لڑاتے رہیں گے.
بقلم ۔۔ حسنات خالد
8 دسمبر 2017

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں