82

لاپتہ افراد کے ورثا کی تنظیم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا،

لاپتہ افراد کے ورثا کی تنظیم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا،
کہ افغانستان کی باگرام جیل میں 250 پاکستانی قیدی ہیں۔ امریکہ نے باگرام جیل افغان حکومت کے حوالے کردی گئی ہے۔ افغانستان کی جیل انتظامیہ نے تمام قیدیوں کے جسم کے کپڑے اتار دیئے ہیں اور واپس نہیں دیئے جارہے۔ امیر نامی ایک پاکستانی قیدی نے دیواروں سے ٹکریں مار مار کر خودکشی کرلی ہے۔ قیدیوں کی ایک بڑی تعداد نے احتجاجا اپنے ہونٹ سی لئے ہیں۔ پاکستانی قیدیوں نے بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔ چھ ہزار پاکستانی مختلف ممالک میں قید ہیں۔
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بیرون ملک قید پاکستانیوں کو واپس لانے کے اقدامات کریں۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی سے فوری بات کریں۔ حکومت پاکستان نے ہماری آواز پر کان نہ دھرا تو اقوام متحدہ اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
جنیوا میں پاکستان پر لاپتہ افراد کی وجہ سے شدید تنقید کی گئی مگر پاکستانی سفارتکار دفاع کے لئے موجود ہی نہیں تھا۔ عالمی دنیا سمجھتی ہے کہ پاکستان لاپتہ افراد کو اٹھانے والوں کو تحفظ دے رہا ہے۔ سپریم کورٹ کمیشن کی بجائے خود تسلسل سے سماعت کرے تو یہ مسئلہ بہت جلد حل ہوسکتا ہے۔
لاپتہ افراد کا مسئلہ اتنا اہم اور خوفناک ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کو بھی اپنے لاپتہ کردیئے جانے کا خوف پیدا کردیا ہے، اب انٹرنمنٹ سنٹرز میں قید ایک سو سے زائد لاپتہ افراد کو قتل کر کے اُن کی نعشوں کر پھینک دیا گیا ہے۔
لاپتہ افراد کے ورثا کو مجبور نہ کیا جائے کہ وہ عالمی اداروں سے رجوع کریں۔

مہتاب عزیز

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں