77

جدید انسان کی حیوانیت

جدید انسان کی حیوانیت
تحریر : – نبیل گورسی
دیکھنے سے تو آج کا انسان تہذیب آشنا نظر آتا ہے مگر کبھی کبھی یہ ایسے افعال کا مرتکب ہوتا ہے جن کو دیکھ کر یو ں لگتا ہے کہ زرق برق ملبوسات میں ایک ایسا حیوان چھپا ہے جو کئی برس جنگلوں میں گزار کر آیا ہے جانوروں کے ساتھ رہنے کے باعث اُس میں بھی کچھ درندگی در آئی ہے جس کا ثبوت انسانوں کے روپ میں چھپے بھیڑئیے مختلف مقامات پر دیتے رہتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ انسان کو انسانیت جیسے عظیم منصب کو پانے کے لیے ابھی صدیاں درکار ہیں۔ پاکستان میں انسانی درندگی کے واقعات آئے روز منظرِ عام پر آتے رہتے ہیں ۔ اب تو یہ اس قوم کا معمول بن چکا جب تک کہیں سے کوئی سو پچاس کے مرنے یا اُن پر ظلم و زیادتی کی خبر نا سن لیں لوگوں کو نیند نہیں آتی اور بعد کا تو کھانا تک ہضم نہیں ہوتا۔ قصور میں پیش آنے والا واقعہ انسانیت کے نام پر دھبہ ہے جسے کچھ ایسے حیوانوں نے انجام دیا ہے جن کو حمایت حاصل ہے ۔ کہتے ہیں ماضی میں ہوئے واقعات حال کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں ۔ ماضی بتاتا ہے ایک واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن بنا پھر پہلے کمیشن کی تحقیقات کے لیے دوسرا پھر دوسرے کی تحقیقات کے لیے تیسرا اور یونہی یہ کاروبار چلتا رہا عوام انصاف کی اُمید لگائے بیٹھے رہے مگر ان بیکاریوں کو کہیں سے کوئی انصاف نا ملا۔ ماڈل ٹاؤن میں بھی تو ۱۶ لوگ مر گئے۔ بتاؤ قائدِ انقلاب یا حکومت کا کچھ بگڑا؟ بالکل نہیں ذلیل و رسوا ہوئے تو غریب کے بچے ، گھر اُجڑے کو اُمید لے کر نکلنے والوں کے اور لختِ جگر کٹے تو بوڑھی ماؤں کے۔ اس ملک میں قانون ہے غریبوں کے لیے کیونکہ اسے بنا یا امیروں نے اور بناتے وقت اس بات کا دھیان رکھا ہے کہ خود کو قانون سے کیسے دور رکھنا ہے ۔ رہی اس واقعہ میں ملوث لوگوں کی بات تو خدا خیر کرے اُن کے آقا سلامت ہیں وہ اس کاروبار کو کبھی ٹھنڈا نہیں ہونے دیں گے۔ چاردن کے لیے منظر سے غائب ہوں گے جیسے ہی معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا پھر سے وہی دھنداشروع ہو جائے گا۔اس واقعہ کے ملزمان کو عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ ان زینب جیسے معصوموں کو تحفظ حاصل ہو۔
نوٹ : یہ تحریر براہ راست راولپنڈی ٹائمز کو موصول ہوئی ہے ادارے کا مصنف کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں مصنف کے ساتھ اس کی ذاتی ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے
ngorsi8@gmail.com

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں