43

جاتلی میں مکئی کو محفوظ کرنے کا تجربہ کامیباب کسان خوشحال

جاتلی(نامہ نگار)جاتلی پپپلز پارٹی کے رہنما راجہ شازی نے مکئی کا چارہ بنانے کے بعد اسے محفوظ کرنے کا تجربہ کیا ہے چارہ ایک سال تک جانوروں کو کھلایا جا سکتا ہے تفصیلات کے مطابق گاﺅں جاتلی کے نہ صرف علاقہ بھر بلکے دیگر اضلاع میں کاشتکاری کے بانی سمجھے جانے والی شخصیت راجہ ابراہہم خان (مرحوم) کے بیٹے راجہ شازی بھی انہی کے نقشے قدم پر چل کر کاشتکاری کے حوالے سے کئی اہم کامیابیاں سمیٹنے لگے ہیں پچھلے دنوں انہوں نے مکئی کو کاٹ کر جانوروں کے لئے چارہ تیارکر کے اس ایک سال تک محفوظ رکھنے کا تجربہ کےا انہوں نے مقامی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ پچھلے کئی سالوں سے ہمارے علاقے میں مکئی کی کاشت کافی حد تک کم ہو گی ہے اس کی بڑی وجہ اس کا منڈیوں میں ریٹ انتہائی کم ہے جس سے کسانوں کو اس میں نقصان ہی ہوتا چلا آ رہا تھا یہ دو مہینے میں تیار ہو نے کے بعد یہ سوکھنا شروع ہو جاتی ہے جو کہ جانوروں کے کھانے کے قابل نہیں رہتی تو میں نے یہ سوچا کہ کیوں نہ اسے محفوظ کرنے کا تجربہ کیا جائے اگر یہ کامیاب ہو گیا تو اس سے کاشکاروں کو کافی فائدہ پہنچ سکے گا اس سال میں نے تجربہ کرنے کے لئے مکئی کی فصل کی کاشت پہلے کی نسبت بہت زیادہ کی اس کی بڑی وجہ کہ میرا ڈیری فارم ہے اور میری ہمیشہ ہی کوشش رہی کہ جانوروں کو کھل ،و چوکر کی با نسبت سبز چارہ کھلائے جائے تو میں نے چارہ بنانے والی مشین خریدی اور اسے جس جس کھیت میں فصل موجود ہے اسے ٹریکٹر کے پیچھے فٹ کر کے اس مشین کے منہ کے آگے ٹرالی کھڑی کر دی جاتی ہے اوریہ چارہ بنا کر اس ٹرالی میں ڈالتی جاتی ہے اور اس کو محفوظ بنانے کے لیے پہلے سے بنائے گے بےنکروں میں لا کر ڈال دیا جاتا ہے اور اس کے اُوپر گڑ کا شیراںڈال کر اس پلاسٹک سے کور کر دیا جاتا ہے اور اسے دومہینے تک بند رکھنا پڑتا ہے دو مہینے کے بعد یہ جانوروں کو ڈالنا شروع کر دیتے ہیں اس سے ایک تو جانورطاقتور ہو جاتے ہیں گائے اور بھینسں کی دودھ اوسطا بھی بڑھا دیتی ہیں

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں